👁 76 views
Written bySid Rohan
English, اردو August 7, 2026

کشمیر: نقشے پر ایک تنازع، زمین پر انسانوں کی زندگی

کشمیر: نقشے پر ایک تنازع، زمین پر انسانوں کی زندگی

کشمیر کے بارے میں لکھتے ہوئے مجھے ہمیشہ ایک بات پریشان کرتی ہے: دنیا کشمیر کو اکثر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک سیاسی تنازع کے طور پر دیکھتی ہے، لیکن کشمیر میں رہنے والے لوگوں کے لیے یہ کوئی نقشے پر کھینچی ہوئی لکیر نہیں، بلکہ روزمرہ کی زندگی ہے۔

آج، اگست 2026 میں، کشمیر ایک بار پھر سیاسی بے چینی کے دور سے گزر رہا ہے۔

بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کو سات سال گزر چکے ہیں، لیکن اس فیصلے کے سیاسی اثرات ختم نہیں ہوئے۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اور ان کی جماعت ایک بار پھر ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دہلی میں بھی مظاہرے ہوئے اور کشمیر کے اندر بھی سیاسی جماعتوں نے اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔

میرے خیال میں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ دہلی کیا کہتا ہے یا اسلام آباد کیا کہتا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کشمیری کیا چاہتے ہیں؟

یہ سوال دہائیوں سے سیاسی نعروں، قومی مفادات اور سرحدی کشیدگی کے نیچے دب جاتا ہے۔

بھارت یہ مؤقف پیش کرتا ہے کہ 2019 کے بعد کشمیر میں ترقی، سرمایہ کاری اور بہتر انتظامی نظام کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ اس نقطۂ نظر کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا بھی درست نہیں۔ کشمیر میں ایسے لوگ موجود ہیں جو امن، روزگار، سیاحت اور اقتصادی ترقی کو سیاسی بحث سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔

لیکن دوسری طرف یہ حقیقت بھی موجود ہے کہ ایک بڑی تعداد آج بھی اپنی سیاسی شناخت، خود اختیاری اور ریاستی درجے کے سوال کو ختم شدہ معاملہ نہیں سمجھتی۔

یہی وجہ ہے کہ سات سال بعد بھی آرٹیکل 370 کا ذکر صرف تاریخ کی کتابوں میں نہیں بلکہ کشمیر کی سڑکوں اور سیاسی جلسوں میں سنائی دیتا ہے۔

لیکن کشمیر کی کہانی صرف سری نگر تک محدود نہیں۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی حالیہ ہفتوں کے دوران شدید سیاسی بے چینی دیکھنے میں آئی ہے۔ عوامی احتجاج، انتخابی اصلاحات کے مطالبات، مہنگائی اور حکمرانی کے خلاف ناراضی نے ایک مختلف مگر اہم حقیقت سامنے رکھی ہے۔

یہاں پاکستان کے لیے بھی ایک مشکل سوال پیدا ہوتا ہے۔

اگر اسلام آباد کشمیریوں کے سیاسی حقوق کی بات کرتا ہے تو اسے اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں اختلافِ رائے، آزاد صحافت اور عوامی احتجاج کے لیے بھی جگہ دینی ہوگی۔

میرے نزدیک کشمیر کے مسئلے کی سب سے بڑی بدقسمتی یہی ہے کہ دونوں طرف اکثر کشمیری عوام کی آواز سے زیادہ ریاستوں کے بیانیے سنائی دیتے ہیں۔

نئی دہلی اپنی کہانی سناتا ہے۔

اسلام آباد اپنی کہانی سناتا ہے۔

لیکن سری نگر، مظفرآباد، پونچھ، بارہمولہ اور وادی کے چھوٹے دیہاتوں میں رہنے والے عام لوگوں کی کہانی کون سنتا ہے؟

میں کشمیر کو صرف ہندوستان اور پاکستان کے درمیان زمین کا تنازع نہیں سمجھتا۔

یہ شناخت کا سوال ہے۔

یہ سیاسی نمائندگی کا سوال ہے۔

یہ انسانی وقار کا سوال ہے۔

اور سب سے بڑھ کر یہ اس نسل کے مستقبل کا سوال ہے جو جنگ، فوجی کشیدگی اور سیاسی نعروں کے درمیان پیدا ہوئی ہے۔

2025 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان شدید فوجی کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ کشمیر میں ایک واقعہ کتنی تیزی سے دو ایٹمی طاقتوں کو خطرناک تصادم کے قریب لے جا سکتا ہے۔

اسی لیے مجھے یقین ہے کہ کشمیر کا مستقبل بندوق سے طے نہیں کیا جا سکتا۔

نہ دہلی طاقت کے ذریعے ہر سیاسی سوال ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتا ہے، نہ اسلام آباد صرف کشمیر کا نام لے کر اپنی ذمہ داریوں سے آزاد ہو سکتا ہے۔

اگر واقعی امن مطلوب ہے تو کشمیریوں کو صرف ایک مسئلے کا حصہ نہیں بلکہ حل کا بنیادی فریق سمجھنا ہوگا۔

سات سال بعد بھی کشمیر ہمیں ایک سادہ حقیقت یاد دلاتا ہے:

آپ آئین بدل سکتے ہیں۔

آپ سرحدوں کی حفاظت کر سکتے ہیں۔

آپ سیاسی نقشے بدل سکتے ہیں۔

لیکن لوگوں کے دلوں میں موجود سوالات کو حکم نامے سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

اور جب تک ان سوالات کو سنجیدگی سے نہیں سنا جائے گا، کشمیر بظاہر پُرسکون تو ہو سکتا ہے، لیکن حقیقی معنوں میں پُرامن نہیں۔

👁 76 views
💬 0 Comment

Comments 0

No comments yet. Start the conversation.